ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پور برہنہ پریڈ معاملے میں اب ایک نابالغ کی ہوئی گرفتاری

منی پور برہنہ پریڈ معاملے میں اب ایک نابالغ کی ہوئی گرفتاری

Sun, 23 Jul 2023 12:12:34    S.O. News Service

امپھال، 23/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) منی پور میں کوکی طبقہ کی خواتین کا جنسی استحصال کرنے اور ان کا برہنہ پریڈ کرانے کے معاملے میں ملک بھر میں اٹھ رہے سوالات کے درمیان منی پور پولیس نے ہفتہ کے روز مزید ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نیا گرفتار ملزم نابالغ ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی منی پور خاتون استحصال معاملے میں گرفتاریوں کی مجموعی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ چھٹے ملزم کو ہفتہ کی دوپہر تھوبل ضلع سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو منی پور کے تھوبل ضلع کی ایک مقامی عدالت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے اس خوفناک جرم کی پولیس جانچ کو سہولت آمیز بنانے کے لیے گرفتار چاروں ملزمین کو 11 دنوں کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ افسران نے بتایا کہ معاملے کی جانچ افسر کی عرضی پر تھوبل میں فرسٹ کلاس جیوڈیشیل مجسٹریٹ نے چاروں کو 31 جولائی تک پولیس حراست میں بھیج دیا۔ ملزمین کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کورٹ میں پیش کیا گیا۔

اس درمیان جمعہ کو ناراض بھیڑ نے تھوبل کے وانگجنگ علاقے میں فرار مشتبہ 20 سالہ ایل کبی چندر کے گھر میں آگ لگا دی۔ جمعرات سے ہی فرار کبی چندر 19 جولائی کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی حیران کرنے والی ویڈیو میں نظر آ رہے جرائم پیشہ بھیڑ میں سے ایک ہے۔ ناراض خواتین نے جمعرات کی دیر شام تھوبل ضلع کے یائریپوک گاؤں میں کلیدی ملزم ہوئریم ہیروداس سنگھ (میتئی) کا گھر بھی جلا دیا۔

وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ، جن کے پاس محکمہ داخلہ بھی ہے، نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار کیے گئے لوگوں سے سینئر پولیس افسروں کے ذریعہ پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے اور اس وقت وہ تفصیلات ظاہر نہیں کر پائیں گے۔ سنگھ نے بتایا کہ ’’جرائم میں شامل بقیہ ملزمین کو پکڑنے کے لیے میں نجی طور سے پولیس کی تلاشی مہم کی نگرانی کر رہا ہوں۔‘‘

اس درمیان منی پور پولیس نے ٹوئٹ کر جانکاری دی کہ ’’ریاستی پولیس باقی قصورواروں کو جلد از جلد گرفتار کرنے کے لیے ممکن کوشش کر رہی ہے۔ چھاپہ ماری جاری ہے۔‘‘ علاوہ ازیں ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ قصورواروں کو پکڑنے کے لیے منی پور پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے ذریعہ کانگپوکپی، تھوبل اور آس پاس کے دیگر اضلاع میں تلاشی مہم جاری ہے۔ واقعہ میں شامل قصورواروں کا پتہ لگانے کے لیے وسیع تلاشی کی نگرانی کے لیے سینئر افسروں کی قیادت میں کئی پولیس ٹیموں کی تشکیل کی گئی ہے۔


Share: